ممبئی،7؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بی جے پی کے زیراقتدارریاست مہاراشٹرمیں کسانوں کی صورتحال کتنی خراب ہے اس کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ ایک طرف کسان تمام قرض معافی کے اپنے مطالبات کو لے کریکم جون سے ہڑتال پرہیں تودوسری طرف قرض میں ڈوبے کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کسانوں کی ہڑتال کے بعدسے اب تک ریاست میں 4کسان خودکشی کراپنی زندگی ختم کر چکے ہیں جن میں دو ناسک کے ہیں تو ایک ایک بیڈ اور اکل کوا سے ہیں۔اکل کوا میں 45سال کے کسان گنیش کالبیڈے نے 6جون کو پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔اکل کواکے امبرا گاؤں کے گنیش نے 80ہزارکاقرض لے کر 2.5 ایکڑ میں ارہر دال کی بوائی کی تھی، لیکن فصل کم ہونے سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور بینک کا قرض چکانا مشکل ہو گیا تھا۔ناسک کے لاسل گاؤں کے رہائشی 40سال کے گورکھ کوکنے نے 5 جون کو خودکشی کی۔گورکھ کوکنے پر 2.5لاکھ کا قرض تھا۔ناسک کے نوناتھ بھالیراو نے بھی 5جون کو زہر پی کر خودکشی کرلی۔ییولا تحصیل کے پریگاو رہائشی نوناتھ نے پمپری اور لاسلگاؤ میں کسانوں کی تحریک میں حصہ بھی لیاتھا۔بیڑ کے سوریہ بھان بابوراو گجال پر بھی 1لاکھ 20ہزار روپے کا قرض تھا۔ہوار واڑی گاؤں رہائشی سوریہ بھان نے زہر پی کر خودکشی کی ہے۔